لندن30اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ایرانی صدر حسن روحانی نے ایرانی عوام کو خبردار کیا ہے کہ اگر مئی میں ہونے والے انتخابات میں انہوں نے روحانی کی جگہ کسی قدامت پسند امیدوار کا چناؤ کیا تو ایرانیوں کو زیادہ بڑی صورت میں تحکم پسند نظام کا سامنا ہو سکتا ہے۔گزشتہ صدارتی انتخابات میں 2013 میں روحانی نے حیران کن جیت کے ذریعے آٹھ برس تک اقتدار میں رہنے والے محمود احمدی نڑاد کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ 2009 میں احمدی نڑاد کی دوسری مدت کے لیے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے نتیجے میں ملک میں وسیع پیمانے پر احتجاج اور سکیورٹی مہم سامنے آئی تھی۔اس وقت روحانی کو قدامت پسند امیدواروں کی جانب سے بھرپور مقابلے کا سامنا ہے جن میں بعض شخصیات ایرانی کے سپریم رہبر علی خامنہ ای کے کافی قریب ہیں۔یاد رہے کہ قدامت پسندوں نے روحانی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ مغرب کے ساتھ ان کی قربت اور ایران کی نیوکلیئر سرگرمیوں سے دست برداری کے اقتصادی فوائد ابھی تک سامنے نہیں آئے ہیں۔خبروں کی نیم سرکاری ایجنسی تسنیم کے مطابق صدر حسن روحانی نے ایران کے شہر یزد میں ایک مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ " ہم انہیں ملک میں پھر سے سکیورٹی اور پولیس کے غلبے کا ماحول واپس لانے نہیں دیں گے"۔ روحانی نے مزید کہا کہ "19 مئی کو مقررہ انتخابات میں ایرانی عوام دنیا کے سامنے ثابت کر دیں گے کہ ہمارے ملک میں تشدد، انتہا پسندی اور دباؤ کا زمانہ گزر چکا ہے اور ایران اب دانش مندی کے راستے پر گامزن ہے"۔
اپنے خطاب میں روحانی کا کہنا تھا کہ " ایرانیوں کے حوالے سے آزادی اہم ترین مسئلہ ہے"۔ ایرانی صدر کے مطابق انہوں نے وزارت انٹیلی جنس کو احکامات جاری کیے ہیں کہ وہ "لوگوں کی زندگی میں مداخلت نہ کرےَؒیاد رہے کہ حسن روحانی کے مقابل کئی امیدوار ہیں۔ ان میں ابراہیم رئیسی ایک با اثر مذہبی شخصیت ہیں اور وہ قدامت پسند رجحان کی حامل ایرانی عدلیہ میں کئی دہائیوں پر مشتمل تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کے علاوہ محمد باقر قلیباف تہران کے میئر ہیں اور وہ پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر بھی رہ چکے ہیں۔علی خامنہ ای کے قریبی حلیف ابراہیم رئیسی اْن چار ججوں میں سے ایک تھے جنہوں نے1988میں ہزاروں سیاسی قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کی نگرانی کی۔